اس سلسلےميں روسی وزیرخارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ تہران اعلامیہ ایران کے ایٹمی معاملے کے حل کی جانب ایک قدم ہے۔ روس کے وزیرخارجہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ منوچہرمتکی کو بھی ٹیلی فون کرکے ایران کے ایٹمی معاملے کے حل کے لئے مذاکراتی عمل میں مدد دینے کی یقین دہانی کرائی ہے روسی وزیرخارجہ کی طرف سے کی گئي اس ٹیلی فونی گفتگومیں فریقین نے دوطرفہ تعاون کوجاری رکھنے کے اپنے عزم کے اعلان کے ساتھ ساتھ تہران اعلامئے کے تناظرمیں ایٹمی معاملے کوحل کرنے کی راہ میں قدم آگے بڑھانے پراتفاق کیا۔ یہ ٹیلی فونی گفتگوایک ایسے وقت انجام پائی جب اسلامی جمہوریہ ایران کے صدرڈاکٹراحمدی نژاد نے بدھ کوشہر کرمان کے عوام کے ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران ایران کے ایٹمی معاملے کے بارے میں روس کے موقف پرکھل کرتنقید کی تھی۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدرنے روسی صدرکے اس بیان پرکہ تہران اعلامیہ کافی نہيں ہے، اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ یہ بات قابل قبول نہيں کہ روس یہ کہے کہ چونکہ ہم پردباؤ ہے اس لئے وہ ایسا کررہاہے صدراحمدی نژاد نے کہا کہ دباؤ میں ہمسایہ ملک کے خلاف موقف اپنانا درست نہيں ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدرنے یہ بھی کہا کہ ایران پربھی دباؤ ہے توکیا روسی حکام کے لئے یہ بات قابل قبول ہوگی کہ دباؤ میں ہونے کی وجہ سے ایران اپنے ہمسایہ ملک روس کے خلاف اقدام کرے اوراپنے مختصرمدت مفادات کے لئے اچھی ہمسائيگی کے اصولوں کوبالاۓ طاق رکھ دے ؟یادرہے ، تہران ڈکلریشن پرسترہ مئی کوایران، ترکی اوربرزیل کے وزراء خارجہ نے تینوں ملکوں کے سربراہان مملکت کی موجودگی ميں دستخط کئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110